پاس[2]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لحاظ، خیال، مروت۔ "بڑوں کا پاس اور اعلٰی اقدار سے وابستگی اور کبھی کبھی ان سارے بندھنوں سے آزاد ہو جانے کی بے پناہ خواہش۔"      ( ١٩٧٤ء، آپ بیتی، رشید احمد صدیقی، ٢٢ ) ٢ - طرفداری، جانب داری۔ "بے وارثوں کا پاس؛ بڑوں کی تعظیم - یہ کام ہیں جن کے لیے تم بنائی گئیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٢٥ ) ٣ - پہرہ، چوکی۔ (فرہنگ آصفیہ، 476:1) ٤ - پہر، تین گھنٹے کا وقفہ(اسم عدد کے ساتھ مستعمل)۔ "جب ایک پاس شب باقی رہتی ہے تو ہر ملک کے ارباب نشاط حاضر ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری، ١، ٤٩٦:١ )

اشتقاق

فارسی سے اردو میں آیا اور اپنی اصلی حالت اور اصل معنوں میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٩٥ء میں "دیپک پتنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لحاظ، خیال، مروت۔ "بڑوں کا پاس اور اعلٰی اقدار سے وابستگی اور کبھی کبھی ان سارے بندھنوں سے آزاد ہو جانے کی بے پناہ خواہش۔"      ( ١٩٧٤ء، آپ بیتی، رشید احمد صدیقی، ٢٢ ) ٢ - طرفداری، جانب داری۔ "بے وارثوں کا پاس؛ بڑوں کی تعظیم - یہ کام ہیں جن کے لیے تم بنائی گئیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٢٥ ) ٤ - پہر، تین گھنٹے کا وقفہ(اسم عدد کے ساتھ مستعمل)۔ "جب ایک پاس شب باقی رہتی ہے تو ہر ملک کے ارباب نشاط حاضر ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٣٨ء، آئین اکبری، ١، ٤٩٦:١ )

جنس: مذکر